رباعیاتِ ساجد

یارب! نہ کبھی ہم پہ پڑے بار گَراں

ہم جس کی نہیں رکھتے ہیں تاب اور تواں

ہم واسطہ دیتے ہیں شنیّد⚠️ دیں کا اُنجھے

کر لُطف و عِنایَت کی نظر مالک جاں