رباعیاتِ ساجد

ہم انجمن نور سجا رکھتے ہیں

یُوں اپنے مقدر کو جگا رکھتے ہیں

اُن کے رُخ تاباں پہ نظر دل کی ہے

پیغام و سلام اُن سے سدا رکھتے ہیں