رباعیاتِ ساجد

سوچا ہے کبھی کون دل آرا ہوگا

وہ جس کو شفاعت کا اشارہ ہوگا

دن رات پڑھیں اُن پہ درود اور سلام

وہ شاہِ امم پھل کا سہارا ہوگا