شوقِ فراواں

درود جس کا وظیفہ ہو مدام ہو جائے

نبیؐ سے اُس کا سلام و پیام ہو جائے

ادھر توجہِ خیرُ الانام ہو جائے

سیاہِ دل مرا ماؤ تمام ہو جائے

خدا کا شکر کریں ہم اگر ہزار مرتبہ

عطا والائے محمدؐ کا جام ہو جائے

قیامِ طیبہ و بطحا⚠️ میں اے خدائے رحیم!

میاں دمت⚠️ ماہِ مرا⚠️ سیام ہو جائے

حضور چاہیں تو اک ہی نگاہِ رحمت سے

غلام عامِ ساؐ جید امام ہو جائے

جو لوگ رہتے ہیں دنیا میں دھت⚠️ ہیں نبیؐ

اسی قبیلے میں میرا بھی نام ہو جائے

مرا ہے کام فقط نعت مصطفیٰؐ ساجدؔ

قبولِ درگہِ حق میں یہ کام ہو جائے