← شوقِ فراواں
شوقِ عالم میں اُجالا عالمِ ایجاد کا
مصطفیٰؐ کی یاد دارو ہے دلِ ناشاد کا
لطف و نور طیبہ کی فضا سرشار ہے
روحِ افزا ہے اثرِ طیبہ کی آب و یاد کا
توسن تیزاق پر سُوئے فلک تھا وہ رواں
شور تھا آفاق میں ہر سُو مبارک باد کا
اصن وصلِ راتی و سادگی اُس کے اصول
جو تھا دل سے ہے تابعِ آپؐ کے ارشاد کا
ہے عِیاں شاگرد سے استاد کا علم و ہنر
خوب ہے شاگرد بھی اُس کے مثال استاد کا
معرفتِ رہبر کو یادِ اُنؐ میں ہے راحت
ہم سفرِ اُنؐ کا خیال اب غمِ ناشاد کا
جب مکان و لامکان میں غیر بھی کوئی نہیں
پھر یہ ساجدؔ وہم کیا ہے غیر کی امداد کا