شوقِ فراواں

روشن کریں حضورؐ ستارہ یہ تارا ہوا

پہلے پڑی ایسی دل اپیسا⚠️ بچھا ہوا

جس نے وہ نام پاک نبیؐ کا بتھلا دیا

اُس کی نگاہ میں ہے سویرا سجھا ہوا

بلکی سی اک کرن مجھے کافی نہیں ہوئی کہ

ہر چند زندگی کا ہے رستہ بجھا ہوا

تاریک اُس کی جاں ہے بے جالوء زیا بناء⚠️ ہے

جس کے دلوں میں نورِ نبیؐ کا نجھا ہوا

پلٹا کوئی تو روشنی ہی روشنی تھا ذو

اُن کے حضور کوئی آیا بھجا ہوا

ساجدؔ بیفیضِ لطف ہو روشن ہِرا نصیب

اے کاش جل اُٹھے مرے دل کا نجھا ہوا