← شوقِ فراواں
نور احمدؐ سے جہاں آب و دل گُل پیدا ہوا
جلوئہ حُسن ازل سے شوقِ دل پیدا ہوا
اس پہ عالم کی نگاہیں ہیں جہاں آنکھوں پھیر
ارضِ کے عارضِ پہ کعبہ بن کے تل پیدا ہوا
جس جماعت نے اذیّت دی رسولؐ پاک کو
اُس کا ہر اک فردِ ظالم سنگدل پیدا ہوا
اِک فرشتہ سرکشی سے ہو گیا مردود حق
آتشی مخلوق وہ پایاں⚠️ حاصل پیدا ہوا
نقشِ نعلِ پاک اُنؐ کا ہے ہمارا تاج سر
مر گیا دل میں جس کے نورِ دل پیدا ہوا
وہ خدا ہرگز نہیں لیکن خدا کی حق سے نہیں
جو نہ سمجھے یہ خیالِ پتّھر کی سل⚠️ پیدا ہوا
ماوراءَ فکر ہے عالی مقامِ مصطفیٰؐ
کیا کہیں ساجدؔ اُسے جو معتزل⚠️ پیدا ہوا