← شوقِ فراواں
دیراں یہ باغ دل و دیں میرے دیکھا چکا تھا
رحمت کی رحمتِ آئی تھیں نہیں چکا تھا
کیا اور مجھے چاہیے جب اُن کی نظر سے
مرست⚠️ مِرا قلبِ حزیں ہو ہو گیا تھا چکا تھا
ممکن نہیں تھا دل میں تکن⚠️ اور ساتا
دَرسِ آپؐ کا جب ذہن نشیں ہو ہی چکا تھا
اُس قطعہ ارضی یہ قطعہ فدا میں ہے بریں ہے
جو جلوہ گہِ نور ہے⚠️ گیا تیر⚠️ چکا تھا
اُن پر ہیں بھی خالقِ عالم کی نگاہیں
مقبول خدا روئے ہیں کبھی⚠️ چکا تھا
غیر از دَر سرکار کہاں اور میں جاتا
جب آپؐ کا در وقفِ جنہیں کو⚠️ بھی چکا تھا
یہ خاک کی کی مٹ سنتِ ساجدؔ ہو وہیں کی
دل پہلے سے بعد زمیں ہو ہی چکا تھا