← شوقِ فراواں
یشتؐ⚠️ میں عیسہ⚠️ جو بدبخت نے دل میں مارا
آہ کس مرد کو وادئ جہل میں مارا
بندہ سیدؐ⚠️ دوراں نے جو آہ اک بھری
وہ گھی اک شعلہ تھے چشمِ دخل⚠️ میں مارا
میری امداد کو جب شاہِ ولایت آئے
جس قدر تھے مرے اعدا اُنہیں پل میں مارا
ہیں سزاوار سزا لوگ فقط نیت پر
جو تمارا⚠️ ہے وہ گیا وقت اجل میں مارا
پڑھے کے تاریخ ہمیں کوئی بتائے تو سہی
کس نے یوجہل کو تھا جنگ و جدل میں مارا
عظمتِ آدمِ خاکی کو نہ سمجھا ابلیس
وہ گیا کبر و جہالت کے خلل میں مارا
شہر میں جب ہوئی آہ کڑھلبلی⚠️ ساجدؔ برپا
میں نے دیوان شا⚠️ اپنی بغل میں مارا