شوقِ فراواں

میں کسی روز مدینے کو نکل جاؤں گا

دل میں لے کر مے مستانہ اجل جاؤں گا

جدہ پہنچوں گا بڑتی ہوئی جب آنکھوں سے

سر بسر کیف میں اس وقت میں ڈھل جاؤں گا

حرم کعبہ کے جب آئیں گے میرے نظر

طفلِ ناداں کی طرح میں تو مچل جاؤں گا

نور بھر دے گا مری روح میں کہنے کو جلال

اُن کی آن میں یکسر میں بدل جاؤں گا

حق کی تائید سے کہنے کا کروں گا طواف

بجز و اخلاص کے سانچے میں پکل⚠️ جاؤں گا

جب حضوریؐ میری سلطانؐ کے در پر ہو گی

میں بہ صد پاس ادب پلکوں کے بل جاؤں گا

ذرہ بن کر میں لپٹ جاؤں گا دار سے ساجدؔ

لے کے دیوان بھی میں زیرِ بغل جاؤں گا