← شوقِ فراواں
بہت آفاق کا بیدار تھا معراج کی شب
گُل جہاں دامنِ گلزار تھا معراج کی شب
کوئی بیلا⚠️ تھا کہ کہسار تھا معراج کی شب
لعل و گوہر کا وہ انبار تھا معراج کی شب
آپ ہی جانِ جہاں آپ ہی زوجِ ایمان
کھل گیا رازِ بکرہ⚠️ دار تھا معراج کی شب
انبھ⚠️ گیا آنکھ سے مخلوق کی صد شکرِ خدا
وہ جو اک پردۂ اسرار تھا معراج کی شب
کیا حسیں گوہرِ شہوار⚠️ تھا معراج کی شب
کثرتِ طور سے اک عام خذف ریزہ بھی
مرحبا سیّد و سرور کی سواری کے لیے
طور کا توسنِ ہشیار تھا معراج کی شب
حق نے محبوب کو ہر چیز عطا کی ساجدؔ
کرمِ الطاف کا بازار تھا معراج کی شب