شوقِ فراواں

آپؐ کے نام نے وہ لطف ہے بخشا ہم کو

زندگی لکّی⚠️ ہے اب کیف سراپا ہم کو

شکرِ حق گردِ ہمارے ہے درودوں کا حصار

کوئی اندیشہ نہ کھٹکا ہے نہ دھڑکا ہم کو

حقِّ محبوبؐ نے ہر اک کے کیا نقاب اُٹھائے

مختصر راہبرِؐ حق کا دکھایا ہم کو

غیر بھی آپؐ کو کہتے ہیں امیں اور صادق

مہربان ایسا دیا حق نے ہے آقا ہم کو

ماہ کامل کا ہمیں اُس پر شبہ پڑتا ہے

آئے تارا جو نظر داغ ولا کا ہم کو

اُن کی خوشبو میں سدا ڈوبے ہوئے ہم رہتے

کاش مل جاتا ذرا اُن کا پینا⚠️ ہم کو

حق کی تحریر میں خوبی ہے سراسر ساجدؔ

کچھ بھی ناخوب نظر آیا نہ لکھا ہم کو