شوقِ فراواں

جلوۂ شاہِ رسل سے ہے عبارت بخت

اُن سے جو بنچھوکی⚠️ جا ہو گئی بخت

اِس جہاں میں بھی میسّر ہے ہمیں مخلد⚠️ بریں

حق کے محبوب کے دیدار کی دولت بخت

شاہِ دیں دیتے ہیں جس وقت درودوں کا جواب

اُس گھڑی اُن کی عنایت کی ہے صورت بخت

بجز محبت ہمیں کچھ کام نہیں دنیا میں

ہے محبت سے سرِ کارِ⚠️ محبت بخت

آپ کا نام مبارک ہے لبوں پر دن رات

خوب نعت ہے خدا کی بھی نعت بخت

چاہے بھجو⚠️ کو فقط اُن کے تصوّر کی بہار

یادِ اُن کی ہو مری جان کی راحت بخت

دل فقط طالبِ دیدارِ نبی ہے ساجدؔ

میرا ہرگز نہیں مقصود عبادت بخت