شوقِ فراواں

جیسے وابستہ گل و خار کسی گلش⚠️ سے

نیک و بد لپٹے ہیں رحمت کے کھلے⚠️ داسن⚠️ سے

نام لیوا ہیں شہرِ⚠️ خدم خدم⚠️ کا انجم کے

ہم کو رہبار⚠️ نہیں خدشہ کوئی رہزن سے

رحمتیں گرتی میں آئیں آوج⚠️ عرش سے

جب بھی آتی ہیں ہمیں وہ شہرِ⚠️ لولاک کے در سے

رحمتیں گری میں آئیں اوج عرش سے

جب بھی نوری بدن کی ہے جسم میں جسم

لی مع اللہ کے مقامات تک پہنچا ہے کون

شان اُن کی ہے بہت آگے حد ادراک سے

آپؐ خود دیتے ہیں رحمت سے ہمبرا⚠️ کا جواب

جو درود اُن کو پہنچا ہے دلِ غم ناک سے

یہ روشنیاں کس رخِ⚠️ تاباں کی ضیا ہیں

پوچھتے یہ کوئی بات ذرا شمس⚠️ و قمر سے

زمرہ⚠️ خواصِ⚠️ میں ہوائیں ساجدؔ اُن کے شوق میں

آئے خوشبو خلد کی آقاؐ کی آقاؐ کی خاک سے