شوقِ فراواں

نبیؐ کا قُرب تم رکھیں دِل قلب صاف سے

چلتا نہیں ہے کام یاں لاف و گذاف سے

کذب و غرور گھولتے تو ہیں زہر جِسم میں

دیوار کوئی پر خطر جیسے شگاف سے

خَلوت میں ذِکر و فکر اور دِل میں خوف سے

کھٹتے ہیں دِل کے عُقدے کئی اعتکاف سے

پہچان ہو رسُولؐ کی کامِل کہاں نصیب

حیراں ہے عقل اِک ذرا سے انکشاف سے

ہوتی ہیں منزلیں کئی طے ایک گام سے

بڑھتا ہے شوق قُرب خُدا کے طواف سے

یارب ب⚠️ نام مصطفیؐ بنا ہو دِل کی آنکھ

کچھ بھی چھپی رہے نہ حِجاب و غلاف سے

برزخ میں بھی رسُولؐ ہیں نگاہباں⚠️

لاشک⚠️ ہے اختلاف ہمیں اختلاف سے