شوقِ فراواں
1

نبیؐ کا قُرب تم رکھیں دِل قلب صاف سے

چلتا نہیں ہے کام یاں لاف و گذاف سے

2

کذب و غرور گھولتے تو ہیں زہر جِسم میں

دیوار کوئی پر خطر جیسے شگاف سے

3

خَلوت میں ذِکر و فکر اور دِل میں خوف سے

کھٹتے ہیں دِل کے عُقدے کئی اعتکاف سے

4

پہچان ہو رسُولؐ کی کامِل کہاں نصیب

حیراں ہے عقل اِک ذرا سے انکشاف سے

5

ہوتی ہیں منزلیں کئی طے ایک گام سے

بڑھتا ہے شوق قُرب خُدا کے طواف سے

6

یارب ب⚠️ نام مصطفٰؐے بنا ہو دِل کی آنکھ

کچھ بھی چھپی رہے نہ حِجاب و غلاف سے

7

برزخ میں بھی رسُولؐ ہیں نگاہباں⚠️

لاشک⚠️ ہے اختلاف ہمیں اختلاف سے