← شوقِ فراواں
حدیثِ طرب دل سُناتا رہے گا
کرمِ آپؐ کا یاد آتا رہے گا
دل و جان کا مقصود طاعتِ نبیؐ کی
جہاں یہ ہمیں آزماتا رہے گا
خوشی ہو کہ غم دل ہے خوشحال اپنا
یہ ہر نیک و بد سے نبھاتا رہے گا
ستانا ہی جب کام ٹھہرا عدو کا
ستانا رہا ہے ستاتا رہے گا
سہارا تھا جو نام نوحؑ و صلحیٰ⚠️ کا
ہمیں بھی وہی کام آتا رہے گا
خدا نے نبیؐ کو بڑی شان بخشی
جہاں اُن کے نغمات گاتا رہے گا
محاسنِ فضائلِ محمدؐ کے
شب و روز ساجدؔ سناتا رہے گا