← شوقِ فراواں
ایسا دل میں کرب گُھل نہ سکا رو نہ سکا
دامانِ دل کے داغ نہ آنسوؤں سے دھو نہ سکا
ایسی گھڑی ملی ہو زیارت کی یا نبیؐ!
ارمان ہو دور دل سے مرے پاؤں⚠️ کا
چھونا یہ اپنے آپ کا پاناِ خدا ہے
صد حیف عمر ساری جو خود کو نہ جھو⚠️ سکا
مانگا جو میں نے اُن کے توسل سے مل گیا
کیسے کہوں جو مانگا وہ حاصل نہ ہو سکا
غفلت کی نیند سویا رہا تمام عمر
اُن کے کرم سے میرا مقدر نہ سو سکا
تسکینِ جاں نبیؐ کے شاہِ رسلؐ کی یاد
مجھ کو نہ خار غم کوئی وڈن⚠️ چبھو سکا
ساجدؔ وہ فرد کیا ہے جو پڑھتا نہیں درود
دل میں جو آپنے⚠️ نجؑ کی خوشبو کا بو سکا