← شوقِ فراواں
اللہ جلوہِ عجب جہاں بغل میں ہے
کتنی حسین بزمِ حسینؑ بغل میں ہے
ہو لاکھ لاکھ تیرگی راہِ حیات میں
کیا خوف ہے کہ جملی⚠️ ایماں بغل میں ہے
سب کچھ ہے دستیاب ہے اور آساں بھی
دارو کرب و چارہ درماں بغل میں ہے
بینے میں اُن کے روشنی ہے دو جہاں کی
ذاتِ و صفات کا چمنستاں⚠️ بغل میں ہے
بھیلی سی ہر گھڑی ہے تمنا کے دشت میں
باراں ہے گردباد⚠️ ہے طوفاں بغل میں ہے
کہتے ہیں اضطراب میں شام میں شام و سحر
اک فعلہ⚠️ ہے کہ وجل⚠️ بمالِ کا ارماں بغل میں ہے
مجھ کو یقیں ہے مغفرت ہو گی مرے لیے
ساجدؔ نبیؐ کی نعت کا دیواں بغل میں ہے