شوقِ فراواں

پہلو میں یاد سرور کئے روشن ہوئے ہیں

تاریک جاں کو اپنی روشن کئے ہوئے ہیں

ہر پھول سے ہوئے رنگِ بوئے⚠️ جمال اُن کا

شوق اُن کا اپنے دل میں ہر شے کے لیے ہوئے ہیں

سرکار کا تصور دن رات ہے تسلی ہے

رحمت جراحتِ⚠️ جاں مسیحا ہوئے ہیں

حق کے لیے جنہیں جانے کے حق کے لیے مریں گے

ہم عہد اپنے دل سے سچا کئے ہوئے ہیں

اکھل⚠️ ہوئی ہے کوئی ذاتِ احمد نبیؐ کی ہے

جاں اپنی سارا عالم اُن پر دئے ہوئے ہیں

سرشار مت و سرخوش وہ خوش نصیب دائم

اُن کے لیوں سے ساغر جو بھی پئے ہوئے ہیں

نعت و ثنا میں پایا اُس کو اکثر مدہوش

جامِ ولانبیؐ کا ساجدؔ پئے ہوئے ہیں