← شوقِ فراواں
ہم کیش! سنا نعت مزاج آج ہے ناساز
آئے گا مزا خوب اگر دف کا ہوا ساز
اللہ نے محبوب کے ہاتھوں میں شفا دی
بطلی⚠️ کے دواخانے میں طرفہ⚠️ ہیں دوا ساز
دم ہے مرا اکیلا ہوا اور جان بھی بے کیف
مطرب ہے تجھے حق کی قسم اب تو اُٹھا ساز
یہ ایک حقیقت ہے کہ جمتی نہیں محفل
اربابِ محبت کی بلا سوز⚠️ بلا ساز
ہو ذوقِ پرانا ہی پہ اسلوب نیا ہو
گئے اور بنا کوئی نیا اور بنا ساز
ہے نعت و ثنا دل کی غذا اہلِ ولا کی
سرشار ہوا قلبِ ادھر جونہی بجا ساز
کیوں گوشۂ تاریک میں کھپکیں⚠️ اے ساجدؔ
اِس ٹوٹے ہوئے دل سے بنائیں گے نیا ساز