← شوقِ فراواں
بعد صدقِ دل ہے بس ربِّ دوسرا⚠️ کی تلاش
ضرور پہلے کرے راہِ مصطفیٰ کی تلاش
نبی کا سایۂ دیوار ہے بس⚠️ حاصل
عبث ہے گر وہ کرے سایۂ ہما کی تلاش
فلک کو پیچ کے جائے جو عرش پذیراں⚠️ تک
مجھے ہے برسوں سے اُس نالۂ رسا کی تلاش
بجی⚠️ جتوں ہے نبی کا فقیر بن جاؤں
قسم خدا کی نہیں خلعت و قبا کی تلاش
ہو جس کے ہاتھ میں روشن چراغِ مصطفوی
مجھے ہے ایسے کسی منزلِ آشنا کی تلاش
حضورِ ذاتِ وسیلہ ہے پہنچنے⚠️ کا
ہے میرے دل کو اُسی جاں مدعا⚠️ کی تلاش
پسند دل کو ہے طرزِ امیرِ مینائی⚠️
مجھے ہے ساجدؔ اُسی جاں فزا نوا کی تلاش