← شوقِ فراواں
آپ کی یاد میں ہم اشک بہائیں کب تک
دل پہ ہم تجھیلیں⚠️ یہ ایذائیں بلائیں کب تک
شاہِ طیبہ کی گزرگاہوں کو کب پڑھوں⚠️ گے
رات بھر جاگ کے ہم دل کو جلائیں کب تک
تا بکے⚠️ زادِ سفر کی ہمیں مشکل ہو گی
قلبِ حالاں⚠️ کو بہانوں سے رجھائیں⚠️ کب تک
آرزوؤں کے لب خشک پہ ہے سانس اُڑا
زہرِ حسرت کا یہ اردماں⚠️ میرے کھائیں کب تک
آپ کی دید کے کمل⚠️ جائیں درستچہ⚠️ ہم پر
یونہی دن رات ستم دل پر اُٹھائیں کب تک
سبز گنبد کی زیارت ہو شب و روز ہمیں
داستاں ہم غمِ ہجراں کی سنائیں کب تک
اب تو ساجدؔ کو ملے اذنِ حضوری آقا!
دردِ ہجراں کے قیامت کی اُٹھائیں کب تک