شوقِ فراواں

راہبرِ خلق کو ذلفِ⚠️ عوب⚠️ نہیں ہم محبت والے

حق کے محبوب ہیں وہ جنت و کنز⚠️ والے

پیتے ہیں بام محفل پہ ادب سے والے

وہ کبوتر ہیں بڑی شانِ کے شہپر⚠️ والے

منفرد آلِ نبیؐ بزم میں ہے شمعِ صفت

ہیں نمایاں وہ حسیں رودتِ⚠️ منوّر والے

حق کی خاطر جو فدا ہوتے ہیں راہِ حق میں

ہیں صداقت کے امیں خالقِ برتر والے

ابنِ آدم کی اخوت سے ہے ہم دوستی

حاصلی⚠️ اُمن ہیں یہ خاصِ پیمبر والے

مثل پرواندہ ثار⚠️ اُن پر ہے پہ ہمیشہ حاضر

ہیں غلام اُن کے بھی خوب مقدّر والے

ان سے ہی روشنیاں دہر میں ساجدؔ ہر ساری

نور کے لیے سلطانِ⚠️ کے گھر والے