ذوقِ جمال

لوگوں میں وفا کا نام نہیں، جھوٹی ہے بہت دنیائے ذنی⚠️

انسان کو خیر سے کیا لینا، انسان بنا ہے شر کا گھنی

آلودہ غم ہے طلعِ جہاں، کوئی بھی خُوشی نہ چپراچی⚠️ نہ گُنی

''یا شَم نظر ڈال اِلٰہی کچھ طوبیٰ سے ارض⚠️ نے رسی بھی لکنی⚠️''

توری جوت کی چھلمل چگ میں ری چی مِری شب نے دوان ہونا جانا⚠️

زائر! ہے راپگزار ادب، نظروں کو جھکا اور ہوش سے چل

تعظیم سے یاں دم کے گذر، اِس رَہ کا یہی دستورِ عمل

یہ تختِ شہِ عالَم کا ہے جو نُورِ اَزَل کی موج وَصل

''لک بدر فی الوجہ الاجمل خط بالہ مہ زلف ابر ابل⚠️''

تورے چندن پرو کنڈل رحمت کی برن برسا جانا⚠️

اے ذات کے مظمِ⚠️ لُطف و عطا! اے جانِ وفا! اے نُورِ قدم

اللہ سے آپؐ نے ہیں یہ کری⚠️ وہرش⚠️ اور لوحِ قلم

اے خواجۂ عالَم! بدنِ کرم، حال دِل و جان درہم برہم

''اِفانی مُطلِق تو ساطع اقم اے کیسونے پاک ہے احَد کرم''

برن ہارے رم رجم رم رجم دو بند ادھر بھی گرا جانا⚠️