← ذوقِ جمال
1
عالَم کو نِگاہِ عارِف نے ایک جلوہ گاہ اسماء جانا
ہر فرد نے اپنی وسعت تک سوچا، سمجھا، دیکھا جانا
جس کی ہے کہ نظر بھی روشن ، اتنا اُتنا دیکھا جانا
"لم یات نظیرک فی نظر ، مِثل تُو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سرسوہے تُجھ کو ہی شہ دوسرا جانا"
2
آٹی ہی منی مدت سے ادھر اُس پاک وطن کی باد صبا
دِن رات عدیمِ چپیتے⚠️، باتھوں میں لئے شمشیر بلا
پخرا ہوا اصیل حوادث ہے ، ہر ایک گذری میں خوف تیا
"البحر عَلا الموج طقنی من بکس و طوفان ہوش رُبا
منقدہار میں ہوں گذری ہے، ہوا موری نیا پار لگا جانا"