← ذوقِ جمال
عالَم کو نِگاہِ عارِف نے ایک جلوہ گاہ اسماء جانا
ہر فرد نے اپنی وسعت تک سوچا، سمجھا، دیکھا جانا
جس کی ہے کہ نظر بھی روشن ، اتنا اُتنا دیکھا جانا
"لم یات نظیرک فی نظر ، مِثل تُو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سرسوہے تُجھ کو ہی شہ دوسرا جانا"
آٹی ہی منی مدت سے ادھر اُس پاک وطن کی باد صبا
دِن رات عدیمِ چپیتے⚠️، باتھوں میں لئے شمشیر بلا
پخرا ہوا اصیل حوادث ہے ، ہر ایک گذری میں خوف تیا
"البحر عَلا الموج طقنی من بکس و طوفان ہوش رُبا
منقدہار میں ہوں گذری ہے، ہوا موری نیا پار لگا جانا"