ذوقِ جمال

دِل میں جو محبتؐ آپؐ کی ہے وہ طوفان ہے وجد کا سرتا پا

یادِ آپؐ کی دِل کے حرم میں ہے جوں شمسِ⚠️ فُرُوزَاں نورا فِزا

اِک ہم نئیؐ کا ہونوں⚠️ پر، اے اصل علی، اے اصل علی

''البروح فداک فرود حرقا ایک شعلہ گر دیگر برزنِ عشقا''

مورا تن من دھن من سوچ دیا یہ جاں بھی جلا جانا⚠️

سیاح سن ہنر کیا علمِ یقین، جو نُور بھی دِل کی رگوں میں پھرا

حاصل جو ہوا اُس سے بہوا، اِس درِ پر عقیدت سے جو گرا

از خود کچھ ہوتا نہیں حاشا، ملتا ہے عطا سے ہے فن کا سرا

''بس خامہ خام، نَوائے رضا، نہ یہ طرز مِری نہ یہ رنگ مِرا''

اِرشاد اُٹھا ناطق تھا ناچار اِس راہ پر پڑا جانا⚠️