ذوقِ جمال

ہوئے پھرے سے گرچہ اُفقاً⚠️ ہوئے نہیں کُل بدنِ⚠️ دالماں⚠️

ہے فضا بہار ساماں ہے خُوشی کا ابر چھایا

یہ خُدا نے دِن دکھایا

جو بیکر⚠️ پلے تھے اُن کو، کیا پُر نئی نے ایک جا

جو غریب و بے نَوا تھے گلے سے اُنھیں لگایا

نیا دَم دِلوں میں آیا

ہوا خَلق کو مینِ⚠️ نیا دورِ سرخوشی کا

نئی رَت خُوشی کی آئی نیا دِن نیا طَرَب کا آیا

تیرا شُکر ہے خُدایا!