ذوقِ جمال

انھیں حضور نبیؐ کا سر خریدہ ہونا تھا

جنھیں جہاں کے غموں سے رہیدہ ہونا تھا

ہیں راہِ عشق میں اکثر ہزار مشکل میں

انھیں ضرور گریباں دریدہ ہونا تھا

یزید باقی⚠️ حق، بے ادب تھا اور گستاخ

بُنی⚠️ کی آلِ کو داسن کشیدہ ہونا تھا

رَہ رسولؐ سے کٹ کر جو ہو گیا تھا جدا

زیوں اسے بھی شارعِ⚠️ جوں بریدہ ہونا تھا

درودِ کی اسے توفیق ہوگئی حاصل

کہ لازماً سے منزل رسیدہ ہونا تھا

سہارا مجھ کو دیا اُن کے شوق نے محبت نے

وگرنہ حال مرا بھی کبیدہ ہونا تھا

خدا نے بخشی ہے ساجد آلِ کردہ عطا

دل و جگر نے مرے ارمیدہ⚠️ ہونا تھا