← ذوقِ جمال
عالم ہست کا ہر ذرہ ، خدایا! تیرا
دہر تیرا ہے جہاں تیرا ، زمانہ تیرا
تُو اگر ساتھ ہمارے ہے تو کچھ خوف نہیں
ہمیں بھُولے نہ اِلٰہی ! کبھی رہتا تیرا
چار سُو ہستی مطلق کے شواہد ہیں عیاں
ہر طرف آئے نظر دل کو ، اُجالا تیرا
چشمِ حق سے کوئی دیکھے تو نظر آتا ہے
سارے عالم میں وجود ایک ہی تنہا تیرا
پل میں تبدیل شب تار ہو روشن دن میں
مردہ بھی زندہ ہو، کانی ہے اشارہ تیرا
تیرے دیدار کی طالب ہے جہاں کی ہر شے
ہم نے دیکھا ہے سمندر کو بھی پیاسا تیرا
تیرے در سے جو پھیرا دونوں جہاں کا نہ رہا
غیر سے دُور رہا جو بھی ہے شیدا تیرا