ذوقِ جمال

کُھل قسم کھائیں شہرِ دیں کی دل آرائی کی

بات ہر بزم میں ہے آپؐ کی گویائی کی

شاہِ لولاک نے نادروں کو عزت بخشی

بے نوازوں کی سدا حوصلہ افزائی کی

سنگِ برسائے شریروں نے حبیبِؐ حق پر

آپؐ نے بدلے میں دشمن کی مسیحائی کی

جب کہ باطل نے پکارا اُنہیں ازبہر قتال

آگ سی دھُوپ میں بھی بادیہ پیمائی کی

آپؐ کے بندوں کو دولت کی نہیں ہے خواہش

ہوں اُن کے نہیں دل میں کوئی داری کی

آپؐ کا علم و نظر، حق کی عطا ہے ساری

کیا مثال آپؐ کی دانائی و بینائی کی

آپؐ رہتے ہیں غلاموں کے دلوں میں ساجدؔ

بات کچھ اور ہی ہے آپؐ کی آقائی کی