ذوقِ جمال

سیّدِ کونین کا جو حاشیہ بردار ہے

خُوب اُس کا البتر قسمت تحلیٰ⚠️ بار ہے

رات دن آباد جس دل میں ہے یاد مصطفیؐ

کہنے کو دل ہے مگر کاشانہ انوار ہے

جیچے ہیں جو تجّیاتِ⚠️ و سلام اُن کے کے حضور

اُن کی جاں مجہور⚠️ ہر دم اور دل سرشار ہے

خار ہے لیکن مرے دل کو ہے وہ عزیز

مرحبا، منسوب اُن کے دشت کا جو خار ہے

زندگی باقی مری گذرے نبیؐ کے شہر میں

اے خدا! تو مہرباں ستّار⚠️ ہے غفّار ہے

کیا ہی دل افروز ہیں حصنِ حرمِ حرم کی وسعتیں

چار سُو حد نظر تک داسنِ⚠️ گلزار ہے

خُوب سے کیا خُوب تر ساجدؔ ہیں منظر آنکھ میں

شُکر میرا دیدہ بخت اِن دنوں بیدار ہے