ذوقِ جمال

اندریں بزم اند گو خُوش زد⚠️ بے

چوں فراش کردہ آقاؐ کے راہ سے

از چرا از او کند⚠️ پیش و بے

''یاد قِیامت کرتے اُٹھیے قبر''

جاں مَحشَر پر قِیامت کیجیے

ہو گئے نِسبت سے ادنی بھی کبیر

اُنؐ کی رحمت سے ہوئے اُنّی⚠️ مدیر

کوئی ہو سُلطان و قیصر یا امیر

''اُن کے در پر پیچھے⚠️ بن کر فقیر''

بے نَوا! فکر ثروت کیجیے

سرِ حق بن کر جہاں میں آ گیا

اس میں جو ڈوبا خُدا کو پا گیا

مسلہ مشکل ، ہمیں سمجھا گیا

''جس کا حسنِ اللہ کو بھی بھا گیا''

ایسے پیارے سے محبت کیجیے