ذوقِ جمال
1

دِل میں مت جھجکنے کا حرص و چاہ

راتی ایمان ہو ، پاکیزہ نِگاہ

لاکھ مشکل ہو مگر سیدھی ہو راہ

''سر سے گرتا ہے ابھی بار گناہ''

خم ذرا فرق ارادت کیجیے

2

عمر گزری جیسے دیوانے کا خواب

ہم نہیں کر پائے اپنا احتساب

شرم کے مارے ہے دِل پُر اِضطِراب

''آنکھ تو آنکھی نہیں ، دیں کیا جواب''

ہم پہ بے پر شستی⚠️ رحمت کیجیے

3

زیت⚠️ چوں روز و سپ کا ذِکر کیا

شاہ ہے تاج و سپ کا ذِکر کیا

کشت ہے بے آب و گیا کا ذِکر کیا

''عذر بدتر از گنہ پر عِنایَت''

بے سبب ہم پر عِنایَت کیجیے