← ذوقِ جمال
دِل میں مت جھجکنے کا حرص و چاہ
راتی ایمان ہو ، پاکیزہ نِگاہ
لاکھ مشکل ہو مگر سیدھی ہو راہ
''سر سے گرتا ہے ابھی بار گناہ''
خم ذرا فرق ارادت کیجیے
عمر گزری جیسے دیوانے کا خواب
ہم نہیں کر پائے اپنا احتساب
شرم کے مارے ہے دِل پُر اِضطِراب
''آنکھ تو آنکھی نہیں ، دیں کیا جواب''
ہم پہ بے پر شستی⚠️ رحمت کیجیے
زیت⚠️ چوں روز و سپ کا ذِکر کیا
شاہ ہے تاج و سپ کا ذِکر کیا
کشت ہے بے آب و گیا کا ذِکر کیا
''عذر بدتر از گنہ پر عِنایَت''
بے سبب ہم پر عِنایَت کیجیے