ذوقِ جمال

تاکیے دِل میں غم و دردِ بلا

تاکیے افلاس و محبت کی فضا

تاکیے شور و فُغاں مجمع و ما⚠️

''نعرہ کیجیے یا رسُول اللہؐ کا''

مفلسو! سامان دولت کیجیے

اَنمی کے ہاتھ سے کیوں نان کھائیں

کیوں رلائیں اور اپنے ایمان کو رلائیں

بچک⚠️ ہم رحمت کے در سے کیوں نہ پائیں

''ہم تمحارے⚠️ ہوکے کس کے پاس جائیں''

صدقۂ شہزادوں کا رحمت کیجیے

کوئی غم نہ کھایا نہ کچھ صدے⚠️ ہے

نام لے کے اُن کا ہم اچھے رہے

ہم سدایوں⚠️ آب رحمت میں بہے

''من رانی قد زرانقش⚠️ جو کچھے⚠️''

کیا بیاں اس کی حقیقت کیجیے