ذوقِ جمال

شرح متن اسمِ اعظم میں حضور

رُوح ارواح حکوم میں حضور

خَلق میں افضل مقدّم میں حضور

''عالَم علم دو عالَم میں حضور''

آپؐ ہی سے عرض حاجت کیجیے

آپؐ کے خِدمت گذار اہلِ قضا

دور اُن کے نام سے رنج و بلا

اُن کی شُکر چشمہ آپ بقا

''آپؐ سُلطان جہاں ہم بے نَوا''

یاد ہم کو وقت نعمت کیجیے

آپؐ ہیں لُطف و عِنایَت کا سحاب

آپؐ سے ہے زِندگی کی و تاب⚠️

آپؐ صدرِ بزمِ حق ، عالی جناب

''در بدر کب تک مہاجریں خستہ خراب''

طَیَّبہ میں ہمیں عِنایَت کیجیے