ذوقِ جمال

حاضری دیتے ہیں کتنے ہی غلام

سر سے تا پا ہیں وفا ، اُلفت تمام

بچھتے ہیں آپؐ کے دیوار و بام

''ہر برس وہ قافلوں کی دُھوم دھام''

آہ کیجیے اور غفلت کیجیے

ہم نے اپنی جاں پہ کیا کیا کی جفا

دِل کی ہم سنتے رہے آہ و بکا

یوں بھوا غائب نظر سے مدّعا

''پچھر پلٹ کر منہ نہ اس جانِب کیا''

چپ ہے اور دعوائے اُلفت کیجیے

ناسزائی کے گلے اور بُری

کچھ تو مجبوری تھی کچھ حالت بُری

رات دِن کا حال تھا تا گفتگی⚠️

''اقربا ، حب دِلوں ، بے شِکایت''

آہ کس کس کی شِکایت کیجیے