← ذوقِ جمال
1
حاضری دیتے ہیں کتنے ہی غلام
سر سے تا پا ہیں وفا ، اُلفت تمام
بچھتے ہیں آپؐ کے دیوار و بام
''ہر برس وہ قافلوں کی دُھوم دھام''
آہ کیجیے اور غفلت کیجیے
2
ہم نے اپنی جاں پہ کیا کیا کی جفا
دِل کی ہم سنتے رہے آہ و بکا
یوں بھوا غائب نظر سے مدّعا
''پچھر پلٹ کر منہ نہ اس جانِب کیا''
چپ ہے اور دعوائے اُلفت کیجیے
3
ناسزائی کے گلے اور بُری
کچھ تو مجبوری تھی کچھ حالت بُری
رات دِن کا حال تھا تا گفتگی⚠️
''اقربا ، حب دِلوں ، بے شِکایت''
آہ کس کس کی شِکایت کیجیے