← ذوقِ جمال
حال دِل اپنا سنانے کا نہیں
اِضطِراب جاں بتانے کا نہیں
وقت رونے اور رلانے کا نہیں
''اب تو آقاؐ منہ دکھانے کا نہیں''
کس طرح رفع ندامت کیجیے
کیا بُوا⚠️ شوق سفر ، ذوق نظر
سوچتا ہوں ، کیا بُوا وہ رہگذر
آرزو کے بگڑ گئے دیوار و در
''اپنے ہاتھوں خود لنا توڑ بیٹھے گھر''
سر پہ دعوائے بضاعت کیجیے
خُلد صورت عزم ، صَحرا ہو گیا
دِل بھی گویا زرد پتّا ہو گیا
میں مجری دُنیا میں تنہا ہو گیا
''کس سے کہیے کیا ، گیا ہو گیا''
خود ہی اپنے پر ملامت کیجیے