ذوقِ جمال

گُل زمیں کو اب تر سی ہیں جمیں

مرحبا ، وہ گُل صفت اُس کے سکیں

خاک کیجیے یا کہیں عرش بَریں

''عرض کا بھی اب تو منہ پرستا نہیں''

کیا عِلاج دردِ فرقت کیجیے

ہو کرم ایسا کہ جا پہنچوں وہیں

ایسی توفیقیں کہ چنگ لڑا جئیں⚠️

ایسی دولت جو لفا دوں بہر دیں

''اے خُدا! ہمت کہ یہ دکھ سہیں''

آپؐ پر داریں یہ صورت کیجیے

یاد آپؐ آئے تو دِل بھی کِھل اٹھے

آگے ہونٹوں پر شیریں زمزمے

ہو گے روشن دیے جو بُجھتے تھے

''اپنی اچھی مثلی نظر کے شہد سے''

چارہ زہر مصیبت کیجیے