حرفِ نیاز

تاریخِ محبت کی رقم کرتے رہیں گے

ہم تذکرۂ شاہِ اُمم کرتے رہیں گے

اب تک جو رہی شاملِ حال اُن کی نوازش

آئندہ بھی وہ اپنا کرم کرتے رہیں گے

اللہ کا گھر یونہی ضیا بار رہے گا

ہم رقص کناں طوفِ حرم کرتے رہیں گے

منسوب ہوئی سُنتِ شبیرؓ ہمیں سے

سر اپنے رہِ حق میں قلم کرتے رہیں گے

نقشِ کفِ پا اِن کا اُتاریں گے ہمہ دم

قرطاس پہ یوں نقشِ اِرم کرتے رہیں گے

ایثار و وفا مشربِ عُشاق ہے ساجدؔ

ایثارِ دل و جان کا ہم کرتے رہیں گے