← حرفِ نیاز
تیرے قربان مرے گیسوؤں والے خواجہ
لاڈلے رب کے دل و جاں کے اجالے خواجہ
بھر دیا دامنِ امید تری رحمت نے
تشنہ کاموں نے پیے بھر کے پیالے خواجہ
تیرے درویش زمانے کے امیر و سلطاں
تیرے درویش زمانے سے نرالے خواجہ
ہاں! اُسی چشمِ نوازش کا طلب گار ہے دل
ہاں! اُسی خوانِ کرم سے دو نوالے خواجہ
بے بسی میری تماشا نہ کہیں بن جائے
کھو گئے دل پہ پڑے آہنی تالے خواجہ
جان رنجور ہے دل وقفِ پریشانی ہے
ساجدؔ غمزدہ ہے تیرے حوالے خواجہ