← حرفِ نیاز
تیرے قربان مدینے والے
اے مری جان مدینے والے
تھم گیا جو نبیؐ ترا نام لیا
غم کا طوفاں مدینے والے
ساری دنیا ہے ترے زیرِ نگیں
تُو ہے سلطاں مدینے والے
اے خوشا بخت عطا جس کو ہوا
تیرا عرفاں مدینے والے
ہے تری یاد سکونِ خاطر
روحِ ایماں مدینے والے
ذکر سے تیرے مچل اُٹھتا ہے
میرا وجداں مدینے والے
تُو نے بخشا ہے چراغِ روشن
نورِ قرآں مدینے والے
بھول سکتا ہی نہیں کوئی بشر
تیرا احساں مدینے والے
تُو نے ساجدؔ کو عطا کی مستی
شاہِ ذی شان مدینے والے