← حرفِ نیاز
جمالِ حسینؓ و حسنؓ یاد آیا
مجھے جلوۂ ذوالمنن یاد آیا
چھڑا جب بھی محفل میں ذکرِ بہاراں
مدینے کا حُسنِ چمن یاد آیا
محبت کی مجھ کو کشش یاد آئی
خدایا! اویسؓ قرن یاد آیا
وہ ساقی کی چشمِ نشہ بارِ اللہ
وہ مستی وہ ذوقِ کہن یاد آیا
زمانے کی افتاد جب یاد آئی
وہ دستِ نوازش معاً یاد آیا
گرہ جب بھی دل میں پڑی کوئی ساجدؔ
بہت دل کو غنچۂ دہن یاد آیا