حرفِ نیاز

حرفِ نیاز پیش کرے بزمِ ناز میں

یہ حوصلہ کہاں ہے سراپا نیاز میں

جلوے رُخِ خیالات کو اُس نے عطا کیے

روپوش ہے جو دامنِ خاکِ حجاز میں

ذکرِ نبیؐ خدا کی عبادت کی جان ہے

پڑھتے ہیں سب درودِ نبیؐ پر نماز میں

محوِ حدیثِ خواجہ ہمہ دم رہے یہ سانس

ڈھل جائیں دل کی دھڑکنیں آہنگ ساز میں

صلِّ علیٰ میں روتا رہوں تیرے شوق میں

گذرے تمام زندگی سوز و گداز میں

ساجدؔ بغل میں غیر ہے لازم ہے احتیاط

آتا کبھی نہ نفس کی ہم ساز باز میں