← حرفِ نیاز
دل وقفِ تمنائے رسولِ عربی ہے
فردوس سے پائے رسولِ عربی ہے
غمِ میری نظر جلوۂ رُخسارِ نبیؐ ہیں
دل زمزمۂ پیرائے رسولِ عربی ہے
ہے انجمنِ قدس میں جس حُسن کا چرچا
وہ پیکرِ زیبائے رسولِ عربی ہے
ذرّے کو پہاڑ رنگیں بنا دے
وہ مستیِ صہبائے رسولِ عربی ہے
ہر قطرے میں موجود ہے قلزم کا تموّج
اے شوق! یہ دریائے رسولِ عربی ہے
یہ بزم یونہی جلوؤں سے معمور رہے گی
حقِ انجمن آرائے رسولِ عربی ہے
رہوارِ محبت! ذرا آہستہ قدم رکھ
ہاں دیکھ! یہ صحرائے رسولِ عربی ہے
آفاق کا گوشہ کوئی اوجھل نہیں جس سے
وہ دیدۂ بینائے رسولِ عربی ہے
ساجدؔ میرے احساس میں جو نورِ طرب ہے
یہ جلوۂ اسمائے رسولِ عربی ہے