← حرفِ نیاز
دل میں شوقِ نبیؐ سمایا ہے
ہم پہ تیرا کرم خدایا! ہے
مست ہیں مصطفیٰ کے شیدائی
گو سبو ہے نہ جام و مینا ہے
یا نبیؐ تیرے لطف کے قرباں!
تیری چشمِ کرم سہارا ہے
کس قدر ہے اُداس اُمت آج
اِک قیامت دلوں میں برپا ہے
میرے خواجہ! مری خبر لینا
میرا سرمایہ لُٹنے والا ہے
غم نہ کھا ساجدؔ حزیں مت رو
میرے آقا کا بول بالا ہے