← حرفِ نیاز
رکھتی ہے دل کو مہکا ہوا یادِ مصطفیٰ
تسکیں نواز روح فزا یادِ مصطفیٰ
ذکرِ حبیب سے رہے تازہ مری زباں
مجھ کو بھی بخش میرے خدا یادِ مصطفیٰ
انعام ہے خصوصی خدائے کریم کا
ربِ جہاں کی خاص عطا یادِ مصطفیٰ
جلو نگہِ جمال ہے ذو جلوہ زارِ حُسن
جس دل کا ہے وظیفہ سدا یادِ مصطفیٰ
تنہائیوں میں نامِ نبیؐ ہے انیسِ جاں
ہے خلوتوں میں نغمہ سرا یادِ مصطفیٰ
ذرّے رُو رسول کے اب بھی ہیں تابناک
کرتی ہے اب بھی غارِ حرا یادِ مصطفیٰ
کہتا ہے کون یادِ نبیؐ یادِ حق نہیں
دونوں ہیں ایک یادِ خدا یادِ مصطفیٰ
نامِ نبیؐ ہے رہبرِ منزلِ یقیں
کرتی ہے تیز شوقِ لقا یادِ مصطفیٰ
ہر تازہ نعت تازہ مسرّت کی ہے نوید
رکھتی ہے شاد صبح و مسا یادِ مصطفیٰ
ساجدؔ میں مبتلائے الم جب کبھی ہوا
تسکین بن کے آئی خموشی یادِ مصطفیٰ