← حرفِ نیاز
کسی کی زباں شنائے محمدؐ سے تر نہیں
میں ہی جمالِ شاہ کا اِک نغمہ گر نہیں
راہِ خرد میں کوئی بھی کیف و اثر نہیں
معلوم یہ ہوا یہ تری رہگذر نہیں
نالے میں اضطراب فغاں میں اثر نہیں
میرا جہانِ شوق ابھی معتبر نہیں
پیشِ نگاہ شاہِ اُمم کا جو در نہیں
حاصل مجھ جہاں یہاں سکونِ نظر نہیں
کب میرے حالِ زار سے ہیں بے خبر حضورؐ
کب میرے حالِ زار کی اِن کو خبر نہیں
جب سے ہوئی ہے یادِ نبیؐ مونس و رفیق
مجھ کو رہِ حیات میں کوئی خطر نہیں
تُو میرا کار ساز ہے تُو میرا جاں نواز
تیرے سوا کسی پہ بھی میری نظر نہیں
ہر سمت جلوہ بار محمدؐ کا نور ہے
ساجدؔ نبیؐ کا فیض تجلّی کدھر نہیں