حرفِ نیاز

محبت کا دل میں شرر دیکھتا ہوں

میں جلووں کا ہر سو منظر دیکھتا ہوں

نہ رستا نہ رخت سفر دیکھتا ہوں

میں اُن کی نظر راہبر دیکھتا ہوں

معطّر ہیں دن رات اُن کی مہک سے

میں سرشار شام و سحر دیکھتا ہوں

میں کرتا ہوں اپنے دل و جاں نچھاور

جہاں بھی کوئی دیدہ ور دیکھتا ہوں

مجھے یاد آتی ہے وہ چشمِ رحمت

میں جب بھی کوئی چشمِ تر دیکھتا ہوں

نگاہوں میں جلوے ہیں نورِ نبیؐ کے

جہاں دیکھتا ہوں اِدھر دیکھتا ہوں

شبیہ مجھ کو ہوتا ہے اپنے پہ ساجدؔ

پرندہ جو بے بال و پر دیکھتا ہوں