← حرفِ نیاز
مدینے کی ہوائیں نغمہ گر ہیں
نظارے خلد کے پیشِ نظر ہیں
ہر اک رخ سے عیاں نورِ خدا ہے
یہ گلیاں ہیں کہ جلووں کے منظر ہیں
رواں ہے چشمۂ فیضانِ رحمت
یہاں قلب و جگر سیراب و تر ہیں
غلامانِ محمدؐ ہیں خدا ہیں
غلامانِ محمدؐ دیدہ ور ہیں
مرے آقا ہیں آقائے دو عالم
مری سرکار شاہِ بحر و بر ہیں
نظر میں گنبدِ خضری بسا ہے
دعائیں آج میری با اثر ہیں
نبیؐ کا شہر ہے جلووں کا مسکن
یہاں شب کو بھی انوارِ سحر ہیں
گذرتا ہے مرے میں وقت ساجدؔ
مدینے کے عجب شام و سحر ہیں