← حرفِ نیاز
معدنِ جود ہے تُو چشمۂ رحمت آقا
ہے تری ذات سراپائے محبت آقا
شوقِ تیرا ہے دل و جاں کی مسرّت آقا
آرزو تیری ہے سرمایۂ رحمت آقا
شرق اور غرب میں ہے تذکرہ تیرے رخ کا
ہے ہر اک دل پہ تری چشمِ عنایت آقا
سبز گنبد کے لئے رہتا ہوں بے چین سدا
ہے مدینے کا مجھے شوقِ زیارت آقا
تُو ہے محبوبِ خدا یہ کے معلوم نہیں
ہے مسلّم تیری عظمت تیری شوکت آقا
حشر کے دن بھی ہو ساجدؔ کی زباں محوِ ثنا
لب پہ اِس کے ہو تیرا نغمۂ مدحت آقا